۞ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِۗ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۗ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ
watlu ‘alaihim naba'abnai ādama bil-ḥaqqi iż qarrabā qurbānan fa tuqubbila min aḥadihimā wa lam yutaqabbal minal-ākhar(i), qāla la'aqtulannak(a), qāla innamā yataqabbalullāhu minal-muttaqīn(a).
اور (اے محمد) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی کہانی سناؤ، جب ان دونوں نے قربانی پیش کی، تو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے (قابیل) کی قبول نہ ہوئی۔ اس (قابیل) نے کہا: میں ضرور تجھے قتل کروں گا! اس (ہابیل) نے کہا: بے شک اللہ صرف متقیوں سے (عمل) قبول کرتا ہے۔
لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا۠ بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَۚ اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ
la'im basaṭta ilayya yadaka litaqtulanī mā ana bibāsiṭiy yadiya ilaika li'aqtulak(a), innī akhāfullāha rabbal-‘ālamīn(a).
اگر تو نے مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا، تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
اِنِّيْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۤاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ وَذٰلِكَ جَزٰۤؤُا الظّٰلِمِيْنَۚ
innī urīdu an tabū'a bi'iṡmī wa iṡmika fa takūna min aṣḥābin-nār(i), wa żālika jazā'uẓ-ẓālimīn(a).
بے شک میں چاہتا ہوں کہ تو میرا (قتل کا) گناہ اور اپنا گناہ لے کر لوٹے، تو جہنم کے باشندوں میں سے ہوگا، اور یہ ظالموں کی سزا ہے۔
فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ
fa ṭawwa‘at lahū nafsuhū qatla akhīhi fa qatalahū fa aṣbaḥa minal-khāsirīn(a).
تو اس (قابیل) کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر اکسایا، پھر اس نے اسے (واقعی) قتل کر دیا، تو وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا۔